عباس پور
glasses

ماضی کی یادیں
ڈاکٹر محمد تقی انور

آج مورخہ۲۶ جنوری ۲۰۰۸ ء بوقت ۷ بجے کہوٹہ میں اپنے کوارٹر میں سو رہا تھا کہ موبائل فون کی گھنٹی بجی اور ایک افسوس ناک خبر میرے کانوں سے ٹکرائی پروفیسر شبیر احمد چوہدری صاحب انتقال کر گئے ، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ خبر بجلی کی طرح میرے ذہن پر گری۔ چند لمحوں کے لئے میں خاموش سا ہو گیا۔ پھر ابو سے دیگر باتیں کیں اور کال ختم ہو گئی۔ میں بیڈ پر اُٹھ بیٹھا، ماضی کی تمام باتیں اور اچھی بُری یادیں میرے ذہن پر گردش کرنے لگیں۔ وہ دن جب میں نے قاعدے میں داخلہ لیا۔ گورنمنٹ ہائی سکول عباس پور اس وقت مرحوم شبیر احمد چوہدری صاحب کے بھائی لطیف فیضی صاحب سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ہم بوائز ہاسٹل کی سیڑھیوں پر ٹاٹ بچھا کر بیٹھتے تھے۔ ماسٹر عظیم ماگرے صاحب ہمارے استاد تھے۔ وہ انتہائی محنتی، فرض شناس اور با رعب شخصیت کے مالک تھے۔ پہلی کلاس کا جب رزلٹ اناؤنس ہوا تو میں عباس پور میں موجود نہ تھا، اپنے ابوکا لاڈلا مشہور تھا، اس وجہ سے لطیف فیضی صاحب نے بڑے مزاحیہ انداز میں اعلان کیا کہ تقی انور فرسٹ نجانے کہاں ہیں، شاید اپنے ابو کی گود میں ہوں گے۔کلاس دوم میں اشرف قریشی صاحب جیسے قابل استاد سے پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان کی مخصوص مسکراہٹ، باتوں کا سٹائل اور انتہائی انہماک سے بلیک بورڈ پر لکھنا مجھے آج بھی یاد ہے۔


کلاس تھری میں اکرم دین صاحب کی شاگردی ملی جن سے اکثر تختی کی وجہ سے ڈانٹ کھائی، مگر انہوں نے کبھی ڈنڈے سے نہیں مارا۔ کلاس چہارم میں ماسٹر مجید صاحب میرے روحانی استاد بنے۔ وہ تیزی کے ساتھ پیٹھ پر ڈنڈی چلانے میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ایک بار میں ان کی کلاس چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ راستے میں ماسٹر معروف صاحب اپنی کلاس میں بیٹھے تھے۔ وہ اپنی کلاس کو پڑھاتے تھے۔ انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور اپنی کلاس میں بٹھا لیا اور پھر چار دن بعد مجید صاحب سے صلح کروائی، تب میں دوبارہ اپنی پانچویں کلاس میں جا بیٹھا۔ معروف صاحب کی حوصلہ افزائی میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا۔ انہوں نے کبھی ڈانٹا تک نہیں۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد ایک نیا جوش تھا کہ اب ہمیں ڈیسک ملیں گے اور ٹاٹوں سے جان چھوٹے گی۔ کیونکہ پرائمری تک ہمارے کلاس روم تبدیل ہوتے رہے۔ کبھی بوائز ہاسٹل کی سیڑھیاں، کبھی گراؤنڈ میں ٹاٹوں پر، کبھی بوائز ہاسٹل کے گول گٹر پر، کبھی گراؤنڈ سائیڈ کے پتھروں پر۔ مگر جلد ہی ڈیسکوں پر بیٹھنے کا خواب ٹوٹ گیا۔ کیونکہ اگلی کلاس میں ہماری تعداد زیادہ ہونے پر ان کی مزید سیکشن بنائی گئی، لہٰذا ہمیں مزید ایک سال تک ٹاٹوں پر ہی بیٹھنا پڑا۔ ساتویں کلاس میں ڈیسک ملے۔ اس کلاس میں ہمیں ماسٹر محمد دین صاحب مرحوم اردو پڑھایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ طلبہ کے ساتھ بڑا دوستانہ ماحول رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کلاس میں اردو پڑھا رہے تھے۔ آخر میں پوچھنے لگے کسی نے کچھ پوچھنا ہے؟ مجھے شرارت سوجھی، میں کھڑا ہو گیا اور بولااستاد جی! یہ استنبول (ترکی)کے شہر کا کیا مطلب ہے؟ محمد دین صاحب سمجھ گئے کہ یہ شرارت کر رہا ہے۔ فوراً بولے ’’گھر جا کر اپنے پیو کولوں پچھیا‘‘ ۔میں خاموشی سے فوراً بیٹھ گیا اور بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی۔ سکول میں ٹیچرز میں سے ایک ہستی ہم تینوں بھائیوں کی فیورٹ ہے۔ جناب محی الدین صاحب، ہمیشہ کلاس میں اگر باقی طلبہ کے ساتھ ساتھ وہی سوال میں نے بھی غلط کیا تو تمام طلبا کی سزا معاف کر دیا کرتے تھے۔ میتھ پڑھاتے تھے، ذہنی اور جسمانی طہارت پر بہت زور دیا کرتے تھے۔ سیّد بشیر حسین جعفری صاحب ایک ایسی ہستی ہیں جن کے ذکر کے بغیر میری سکول لائف ادھوری ہے۔ آٹھویں کلاس میں برقیات پڑھایا کرتے تھے۔ مارتے کم تھے مگر ڈراتے زیادہ تھے۔ ان کا فقرہ آج بھی کانوں میں گونج رہا ہے کہ میں سال میں ایک مرتبہ ہی مارتا ہوں اور بہت زیادہ مارتا ہوں۔ مگر شاید سال کے اس دن چھٹی تھی جس دن انہوں نے مارنا تھا، اس لئے میں نے کبھی بھی ان سے مار نہیں کھائی۔ بہت سے نام ایسے ہیں جنہوں نے ہماری تعلیم کے ساتھ تربیت پر بہت زور دیا۔ دسویں پاس کرنے کے بعد کالج کا دور شروع ہوتا ہے۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد انور شیخ صاحب تھے۔ وہ خواہش مند تھے کہ میں پری میڈیکل میں داخلہ لوں۔ کلاسز شروع ہوئی مگر میں نے پری انجیئرنگ میں داخلہ لیا۔ دو دن کے بعد بیالوجی کے لیکچرر عبدالرشیدصاحب نے مجھے پاس بلایا اور کہا کہ تقی تم بیالوجی کی کلاس میں کیوں نہیں آتے۔ تب پتہ چلا کہ ابو نے میرا داخلہ دوبارہ پری میڈیکل میں کروا دیا ہے۔ ڈی ای پی غلام حسین صاحب تمام طلبہ کے فیورٹ تھے۔ ٹورنامنٹ ہوں یا پاکستان کے مختلف مقامات کے مطالعاتی دورے ڈی ای پی صاحب کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے تھے۔عباس پور کا گراؤنڈہو یا واہگہ بارڈر یا مری کی پہاڑیاں یا لاہور کا ریس کورس، تمام مقامات ڈی ای پی صاحب زندہ باد کے نعروں سے گونجا کرتے تھے۔
سیکنڈ ائیر میں ابو کا تبادلہ گرلز ڈگری کالج عباس پور میں ہوا۔ ان کی جگہ پروفیسر بشیر احمد چوہدری صاحب بوائز ڈگری کالج میں تعینات ہوئے۔ انتہائی علمی و ادبی شخصیت ہیں۔ بلاتحصیص تمام طلبہ کی رہنمائی کرتے تھے۔ تمام طلبہ کی طرح میرا تعلق بھی ایک تنظیم سے تھا، جس کے سینئر عہدے دار پروفیسر محمد ایاز خان صاحب تھے۔ راولاکوٹ سے آتے تھے اور اجتماعات میں درسِ قرآن دیا کرتے تھے۔ ایاز صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جن کا میں دل سے معترف ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی تقسیم ہے کہ کس کو علمی و ادبی صلاحیتوں سے نوازتا ہے کس کو خطابت سے اور کسی کو پروقار شخصیت سے، کالج کے موجودہ پرنسپل پروفیسر محمد نصیر خان صاحب خوش لباس اور سمارٹ شخصیت کو دیکھ کر ایک ایسی ہستی یاد آتی ہے جو آج ہم میں موجود نہیں، خواجہ رفیق احمد (مرحوم) ایک خوش لباس شخصیت کے مالک تھے۔ کالج کی یہ تمام ہستیاں عباس پور کے تعلیمی میدان میں ایک بڑا مقام رکھتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت یہاں کے غریب طلبا نے محدود وسائل کے باوجود معیاری تعلیم حاصل کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا نام پیدا کیا۔ آج ان میں سے اکثر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ مگر ان کی خدمات زندہ جاوید ثبوت ان کے طلبا ہیں جو کہ ایک صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شخصیات نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے اعتماد دلایا کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہو سکتا ہے۔ اور اللہ کے فضل سے میں نے کوالیفائی کیا اور اللہ میاں نے مجھے ڈاکٹر بنایا اور اس وقت مجھے بحیثیت میڈیکل آفیسر عباس پور کے ہسپتال میں خدمت کرنے کا موقع دیا۔ سنا تھا کہ دو ہستیاں اس وقت دلی طور پر بہت خوش ہوتی ہیں کہ جب ان کی اگلی نسل کسی اعلیٰ مقام پر پہنچے۔ یعنی والدین اور اساتذہ کرام۔ یہ تمام واقعات شخصیات انمٹ ہیں اور میری سنہری یادوں کا ناقابل فراموش سرمایہ بھی۔

بشکریہ: صبحِ نو ۲۰۰۸(مجلہ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج عباس پور)